قادیانیت کے عملی نتائج ، ایک تاریخی جائزہ
مرزا صاحب کے دعوائے نبوت پر اس طرح بھی غور کرنا ضروری ہے کہ انہوں نے عوام اور ملت اسلامیہ کے سامنے کیالائی مل رکھا ، زمانے کے مسائل کے حل کے لیے کیا نئی آ گہی بخشی اور سیرت ومل کے اعتبار سے کیا بلند نمونہ چھوڑا؟ حقیقت پسندی(Realism) اور نتائجیت (Pragmatism) کی اس میزان پر پرکھنے کے لیے ہمیں انیسو میں 19 صدی کے عالم اسلام اور مسلم ہندوستان کی طرف پلٹنا ہوگا۔
انیسویں 19 صدی کا سب سے بڑا واقعہ جسے کوئی مئورخ نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ یورپ کا عالم اسلام اور ہندوستان پر قبضہ ہے ۔مغرب کے سیاسی تسلط اور مادی تہذیب نے جن اجتماعی مسائل کو جنم دیا تھا، انہیں صرف طاقتور ایمان ، یقین ، وسیع علم اور اعتمادو استقامت ہی سے حل کیا جا سکتا ہے ۔اس صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک طاقتور علمی وروحانی شخصیت کی ضرورت تھی جو عالم اسلام میں روح جہاد اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کر دے ۔ جو اپنی ایمانی قوت اور علمی صلاحیت سے دین میں ادنی تحریف و ترمیم کیے بغیر اسلام کے ابدی پیغام اور روح عصر (Zeitgeist) کے درمیان ہم آہنگی پیدا کر سکے ۔ دوسری طرف عالم اسلام مختلف دینیواخلاقی کمزوریوں کا شکار تھا۔ بدعات اور مشرکانہ رسوم عام تھیں ، تو ہمات کا دور دورہ تھا۔ یہ صورت حال ایک ایسے دینی مصلح(Reformer) اور داعی کا تقاضا کر رہی تھی جوان جاہلانہ رسوم کا مقابلہ کرتا اور پوری وضاحت اور جرات کے ساتھ تو حید وسنت کی خالص دعوت کا نعرہ بلند کرتا ۔اس وقت عالم اسلام کی سب سے بڑی ضرورت بیقھی کہ انبیاء کے طریق دعوت کے مطابق اس امت کو ایمان اور عمل صالح کی دعوت دی جاۓ جس پر اللہ تعالی نے فتح و نصرت اور دین و دنیا میں فلاح و سعادت کا وعدہ فرمایا ہے ۔انیسو میں 19 صدی کے پنجاب میں جم لینے والے اس ”پیغمبر‘‘ کی تعلیمات اپنے دور کے انسان کی اجتماعی مشکلات اور ان کے حل سے مکمل بیگانہ نظر آتی ہیں ۔سیاسی ،معاشی ،سماجی اور فلسفیانہ سطح پر بنی نوع انسان عمومی طور پر اور ملت اسلامیہ خصوصی طور پر بہت سے مسائل کا شکار تھی ۔ان مسائل کاحل ہی مسلمانوں میں تجدید و اصلاح اور ایک معیاری فرد اور مثالی معاشرے کے قیام کا باعث بن سکتا تھا ۔ایک ایسے نازک وقت میں عالم اسلام کے نازک ترین مقام ہندوستان میں ، جو ذہنی و سیاسی کشمکش کا خاص میدان بنا ہوا تھا مرزا غلام احمد قادیانی اپنی دعوت اور تحریک کے ساتھ سامنے آتے ہیں ۔ وہ عالم اسلام کے حقیقی مسائل و مشکلات اور وقت کے اصلاحی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوۓ اپنی تمام ذہنی صلاحتیں علم وقلم کی طاقت ایک ہی مسئلہ پر مرکوز کر دیتے ہیں ۔ وہ مسئلہ کیا ہے؟’’ وفات مسیح اور سیح موعود کا دعوی‘‘اس مسئلہ سے جو کچھ وقت بچتا ہے ، وہ جہاد کی تنسیخ اور حکومت وقت کی وفاداری کی نظر ہو جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کی 25 سالہ علمی زندگی اور جد و جہد کا مرکز یہی مسئلہ اور مخالفین سے اس سلسلہ کی معرکہ آرائی ہے ۔ حیات مسیح ،نزول مسیح اور ان کے دعاوی سے پیدا ہونے والے مباحث نے مسلمانوں کے اجتماعی مسائل حل کرنے کے بجاۓ مسلم معاشرے میں ذہنی انتشار اور غیر ضروری مذہبی کشمکش شروع کر دی ۔ وہ اگر کسی چیز میں کامیاب کہے جا سکتے ہیں تو صرف اس میں کہ انہوں نے اپنے خاندان اور ورثاء کے لیے سر آغاخان کے اسلاف کی طرح ایک مذہبی ریاست پیدا کر دی ، جس کے اندر ان کو مادی عیش وعشرت اور قوت حاصل ہے۔


