Qadiyaniat, aik mukhtasir taaruf

Qadiyaniat, aik mukhtasir taaruf

 

ایک مختصر تعارف

جس طرح میرا ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مذہب کی بنیاد بانی مذہب کے عقائد ونظریات پر ہوتی ہے ۔ایسے ہی یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ ہر مذہب کا بانی اپنے مذہب کے لیے بطور آئینہ ہوتا ہے اس لیے قادیانیت کو سمجھنے کے لیے ’مرزا غلام احمد قادیانی‘‘ کی شخصیت کا تعارف ان کے حالات زندگی اور خاندانی پس منظر سے واقفیت انتہائی ضروری ہے تا کہ اندازہ ہو سکے کہ جماعت احمد می جس شخص کو نبی ورسول یا امام مہدی وسیح مانتی ہے وہ خود اوران کا خاندان کس معیار کا ہے چنانچہ مرزا صاحب کی اپنی کتابوں سے ہی مختصر ذکر کیا جا تا ہے۔

قادیانیت کا مذہب ضلع گورداسپور کے قصبہ قادیان میں بیسویں صدی کے آغاز میں پیدا ہوا اس کے بانی اپنی تاریخ کے بارے میں خود لکھتے ہیں ۔

…. میری پیدائش 1839ء یا 1840 سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی اور میں 1857ء میں سولہ یا سترہ برس کا تھا‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 13/ ص 177)

….. میری قوم مغل برلاس ہے۔

(روحانی خزائن جلد 13/ صفحہ 162)

…… میں اس نواح کے ایک رئیس اور سرکار انگریزی کے نیچے خیر خواہ کا بیٹا ہوں جن کا نام مرزا غلام مرتضی تھا وہ انگریزی گورنمنٹ کے وفادار اور خیر خواہ تھے ۔جنہوں نے 1857ء میں پچاس گھوڑوں مع سواروں کے سرکار کو مد د دی اور گورنر جنرل کے دربار میں ان کو کری ملتی تھی ۔ تیموں کے گزر پر جو گورداسپور کے قریب واقع ہے جب باغیوں کا عبور ہوا تو ان مفسدوں کے مقابلہ میں جن لوگوں نے سپاہیانہ بہادری دکھائی تھی ان میں سے میرا حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم تھا میں بذات خودستر ہ 17 برس سے سرکار انگریزی کی ایک ایسی خدمت میں مشغول ہوں کہ درحقیقت وہ ایک ایسی خیر خواہی گورنمنٹ عالیہ کی مجھ سے ظہور میں آئی ہے کہ میرے بزرگوں سے زیادہ ہے اور یہ ہے کہ میں نے بیسیوں کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں اس غرض سے تالیف کی ہیں کہ اس گورنمنٹ محسنہ سے ہرگز جہاددرست نہیں‘‘۔

( مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحہ 66)

مرزا صاحب نے اپنے گھر ہی پر متوسطہ تک تعلیم پائی ۔مرزا صاحب خوداس کی تفصیل ….. بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح ہوئی جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا۔ جنہوں نے قرآن حدیث اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اس بزرگ کا نام فضل الہی تھا۔

جب میری عمر تقریبا دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر ہوۓ جن کا نام فضل احمد تھا میں نے صرف کی بعض کتا ہیں اور کچھ قواعد خوان سے پڑھے اور جب میں سترہ یا اٹھارہ برس کا ہوا تو گل علی شاہ سے چند سال پڑھے ان کو بھی میرے والد صاحب نے قادیان میں پڑھانے کے لیے نوکر رکھا ان سے میں نے نحواور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو حاصل کیا۔

اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں وہ بڑے حاذق طبیب تھے۔

( روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 تا 181 کتاب البرید )

ملازم مرزا صاحب 1864ء سے 1868ء تک سیالکوٹ میں ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں بطور اہلمد ملازم رہے ۔ دوران ملازمت انہوں نے انگیریزی کی بھی ایک دو کتابیں پڑھیں ۔اسی زمانہ میں انہوں نے مختاری کا امتحان دیالیکن اس میں کامیاب نہ ہو سکے اور جب ملازمت سے استعفیٰ دے کر واپس قادیان آ گئے تو قادیان میں ان کا زیادہ وقت زمینداری ، مقدمات کی پیروی اور مذہبی کتابوں کے مطالعہ میں گزرتا۔ مرزا صاحب کی علمی زندگی کا آغاز 1880ء میں ہوا۔ جب انہوں نے اپنی پہلی تصنیف ’’براہین احمد ی‘‘ کی جلد اول شائع کی ۔’’براہین احمدیہ کی تصنیف 1879ء سے شروع ہوتی ہے ۔مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ وہ بیک وقت عیسائیت ، سناتن دھرم، آریہ سماج اور برہمو ساج کی تردید اور اسلام کی صداقت میں 300 دلائل پیش کر یں گے ۔ اس کتاب کی اشاعت کے لیے مرزا صاحب نے مسلمانوں سے مالی مدد کی اپیل کی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب بڑی جامع ہوگی اور پچاس حصوں پر مشتمل ہوگی لیکن چو تھے ہی حصے پر کتاب کا سلسلہ رک گیا۔ پانچواں حصہ کتاب شروع کرنے کے پورے 25 سال بعد 1905ء میں شائع ہوا۔اس دوران بہت سے لوگ جو پوری کتاب (50 حصوں پرشتمل) کی قیمت داخل کرا چکے تھے ،فوت ہو چکے تھے۔مرزا صاحب لکھتے ہیں ۔ ….. پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس سے پانچ پر اکتفا کیا گیا اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے، اس لیے پانچ حصوں میں وعدہ پورا ہوگیا۔

(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 9)

اس قسم کی نکتہ سنجیاں اور تاویلات مرزا صاحب کی تمام تعلیمات میں موجود ہیں ۔

براہین احمدیہ کا مطالعہ نہیں بتا تا ہے کہ یہ کتاب نادر علمی تحقیقات کی بجاۓ کشف، الہامات ،دعوؤں اور پیشین گوئیوں سے بھرائی ہوئی ہے ۔ مصنف نے صاف صاف اپنی شخصیت کا اشتہار دیا ہے ۔ کتاب کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ الہام کا سلسلہ نہ منقطع ہوا ہے نہ اس کو منقطع ہونا چاہیے ۔ اس الہام کے بقاء اور تسلسل کے ثبوت میں وہ اپنے طویل الہامات نقل کرتے ہیں ۔ میدالہامات قرآن اور حدیث کے غیر مر بوط ٹکڑوں پرمشتمل ہیں ۔جومرزا صاحب کے اپنے جملے ہیں ۔ وہ ہندوستانی عربی کا نمونہ ہیں اوران میں عربی قواعد کی بھی فاش غلطیاں ہیں ۔ 1884ء تک مرزا صاحب کا دعوی یہ ہے کہ وہ خدا کی طرف سے مامور اور عصر حاضر کے مجدد ہیں اور ان کو حضرت مسیح سے مماثلت حاصل ہے۔ (سیرت المہدی، پرانا ایڈیشن جلد 1 صفحہ 39) وہ شروع میں حضرت مسیح کے آسمان پر جانے اور دوبارہ اترنے کا عقیدہ بھی رکھتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب کے عجیب وغریب دعاوی میں ہمیں ایک تدریج نظر آتی ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ وہ اپنے آخری دعوے کے لیے پہلے زمین ہموار کرنا چاہتے تھے ۔مرزا صاحب کے دعوؤں کی اگر تاریخی ترتیب قائم کی جائے تو انہیں تین مرحلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

(1….1882ء سے 1890ء کے اختتام تک ۔ اس مرحلے میں مرزا صاحب نے اپنے آپ کو خدا تعالی کا الہام یافتہ قرار دیتے ہوۓ مجدداور مشیل مسیح ہونے کا دعوی کیا۔ (2)…….1891ء سے 1901ء تک ۔ اس مرحلے میں مرزا صاحب نے سیح موعود مہدی ہونے کا دعوی کیا۔ (3)….. 1901ء سے 1908ء تک ( یعنی مرزا صاحب کی وفات تک )۔

اس مرحلے میں مرزا صاحب نے نہ صرف نبی اور رسول ہونے کا دعوی کیا بلکہ بے شماردعاوی کی بھر مار کر دی۔ بیدعاوی باہم متناقض (Contradictor) بھی دکھائی دیتے ہیں ۔اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اگر مرزا صاحب کے ایک دعوے پر کوئی گرفت کی جاۓ تو حجٹ مرزا صاحب کا کوئی دوسرا قول پیش کر دیا جاۓ ۔انبیاء کرام علیہم السلام کے الہامی کلام میں نہ اختلافہوتا ہے اور نہ اس میں بے ربط بے جوڑ باتیں پائی جاتی ہیں ۔چنانچہ تعارض کلام اور دعاوی کے متعلق مرزا صاحب کے اقوال ملاحظہ کر میں!

… کسی کے ورقلمند اورصاف دل انسان کے کلام میں ہرگز تناقض نہیں ہوتا‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 142)

مرزا صاحب کے متضاد دعاوی کا نمونہ ملاحظہ ہو! … یہ وہ ثبوت ہیں جو میرے مسیح موعود اور مہدی موعود ہونے پر کھلے کھلے دلالت کرتے ہیں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 264)

….. میرا یدعوی نہیں کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة ومن عاشرتی وغیرہ ہے۔

(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356)

… اہل سنت کا مذہب ہے کہ امام مہدی فوت ہو گئے ہیں اور آخری زمانہ میں انہیں کے نام پر ایک اور امام پیدا ہوگالیکن محققین کے نزدیک مہدی کا آنا کوئی یقینی امرنہیں ہے

******

(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 344)

…. وہ مسیح موعود جس کے آنے کا قرآن کریم میں وعدہ کیا گیا ہے یہ عاجز ( مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہے ۔

(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 468)

… اس عاجز نے جوشیل ہونے کا دعوی کیا ہے جس کو کم فہم لوگ مسیح موعود خیال کر بیٹھے ہیں ، میں نے ہرگز دعوی نہیں کیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 192)

… خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے ۔ پس وہ خدا کا کلام جو میرے پر نازل ہوتا ہے۔ایک خارق عادت کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے ۔

…… سچا خداوہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 20 رصفحہ 412)

دسمبر 1891ء کی ’’ آسانی فیصلہ‘ کتاب میں لکھتے ہیں!

…. میں نبوت کا مدعی نہیں بلکہ ایسے مدعی کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 313)

…. میں صاحب شریعت نہیں ہوں‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 231)

… ما سوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے جس نے اپنی وی کے ذریعے سے چند امر اور نہی بیان کیے اور اپنی امت کے لیے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وی    میں امر بھی ہیں اور نہی بھی‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 435)

…. ایسا ہی اب تک میری وی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی‘‘۔

بعد کوئی اور بھی سیح کامثیل بن کے آوے۔

(روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 436)

(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 211،210)

….. بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ہمارے

(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 180،179)

….. میرا یہ دعوی نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197)

… پس میرے سوا دوسرے میچ کے لیے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 243)

ایک شخص نے سوال کیا کہ لکھا ہے کہ بیج کئی ہوں گے ۔ فرمایا!

…. جوموعود آنے والا تھا وہ صرف ایک ہی ہے۔

…. حضرت عیسی نے ایک سو بیس برس عمر پائی‘‘۔

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 3)

(روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 293)

…. حضرت عیسی نے ایک سو پچیس سال کی عمر میں انتقال کیا‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 499)

… مسیح کی قبر کشمیر سری نگر محلہ خان یار میں ہے۔

(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 16)

… مسیح کی قبر بیت المقدس طرابلس یا بلا دشام میں ہے۔

(روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 296)

… توچ ہے کہ یہ اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہو گیا‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 353)

….. ایک قسم کی نبوت ختم نہیں ہوئی یعنی وہ نبوت جو کامل پیروی سے ملتی ہے۔

(روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 340)

….. میں زندہ علی ہوں‘‘۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ 400 طبع جدید)

…. میں حجر اسود ہوں‘‘ ۔

(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 29)

…. خدا تعالی نے بار بار میرے پر ظاہر کیا کہ جو کرشن آخری زمانے میں ظاہر ہونے والا تھا وہ تو ہی ہے ، آریوں کا بادشاہ ‘۔

(تنته حقیقت الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 522)

… ” میں نے کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 103)

مرزا صاحب کے میدعاوی ایک مرتب اسکیم کے ماتحت ہیں ۔انہوں نے مجدد سے نبی بنے کی منزلوں کو طے کرنے میں بڑے صبر وتحمل اور احتیاط سے کام لیا ۔ وہ اس کا اطمینان کر لینا چاہتے تھے کہ کیا لوگوں کی عقیدت اور ان کا جذ بہ اطاعت اس درجہ پر پہنچ گیا ہے کہ وہ ان کے دوسرے دعاوی کی طرح نبوت کے دعوی کو قبول کر لیں گے ۔ پہلے انہوں نے اپنی نبوت کوظلی ،غیر تشریقی اور نبوت محمدی ہی کانکس قرار دیا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ محض ایک روحانی مرتبے پر فائزہونے کا دعوی کر رہے ہیں لیکن بعد ازاں انہوں نے بعض اہم قطعی اور متواتر احکام شریعت کو پوری قوت کے ساتھ منسوخ کرنا شروع کر دیا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا صاحب شریعت اور صاحب امر ونہی سمجھتے تھے جوقر آنی شریعت کو منسوخ کر سکتا ہے۔ چند صفحات  پیچھے مرزا صاحب کی اپنی تحریر پیش کی گئی ہے جہاں وہ صاحب شریعت ہونے کا دعوی کر رہے ہیں ۔ چنانچہ جہاد جیسے قرآنی حکم کو انہوں نے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ۔ جماعت احمدیہ کے دوست اکثر پیشکوہ کرتے رہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں ہمیں ز بروسی غیرمسلم قراردیا گیا ہے لیکن وہ اس بات کا ذکر بھی نہیں کرتے کہ بانی جماعت احمد بی مرزاغلام احمد قادیانی اوران کے تمام خلفاء ان مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں ۔ جنہوں نے مرزا صاحب کے دعوؤں کوقبول نہیں کیا۔ احمدی دوستوں کا عجب معاملہ ہے کہ وہ ایک طرف تو مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ انہیں اپنا حصہ سمجھا جاۓ ۔ انہیں برابر کے حقوق ملیں اور مسلمان معاشرتی زندگی میں ان سے مل جل کر رہیں لیکن جماعت احمدیہ میں شادی بیاہ سے لے کر جنازہ اور تدفین تک جملہ معاملات میں مسلمانوں سے بائیکاٹ اور انقطاع کی تعلیم ہے اور اس پر بھر پور زور دیا گیا ہے ۔ کہ مسلمانوں سے کسی قسم کا کوئی معاملہ نہ رکھیں ۔ کوئی احمدی اپنے بچے یا بچی کی شادی جماعت سے باہر نہیں کر سکتا۔ کسی مسلمان کا

جناز نہیں پڑھ سکتا ،مرزاصاحب اور ان کے خلفاء کی چند تحریر میں ملاحظہ فرمائیں!

جو ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا ،صاف سمجھا جاۓ گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 32،31)

… جوشخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا ، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۔

(تذکرہ صفحہ 280 ایڈیشن چہارم )

….. خدا تعالی نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے اور خدا کے نزدیک قابل مواخذہ ہے۔

(تذکر ہ صفحہ 519 /ایڈیشن چہارم )

….جو میرے مخالف تھے ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا‘‘۔

(روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 382)

ایک جگہ مرزا صاحب اپنی تصنیف کردہ کتابوں براہین احمد ی ازالہ اوہام، فتح اسلام اور دافع الوساوس‘‘ وغیرہ کا ذکر کر نے کے بعد لکھتے ہیں ۔

.تلك كتب ينظر إليها كل مسلم يعين المحبة والمودة

وينتفع من معارفها ويقبلني ويصدق دعوت إلا ذرية البغايا الذين ختم الله على قلوبهم فهم لا يعقلون۔

ترجمہ:’’ان کتابوں کو ہر مسلمان پیار اور محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے نفع حاصل کرتا ہے اور مجھے قبول کرتا ہے اور میری تصدیق کرتا ہے مگر بازاری عورتوں کی اولا دجن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔

( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 548،547)

عام طور پر مرزا صاحب کی اس تحریر کے بارے میں احمدی مربی یہ کہتے ہیں کہ مولویوں نے لفظ’البغایا‘‘ کا ترجمہ’بدکار یا بازاری عورتیں‘‘ غلط کیا ہے اور وہ لوگوں کو دھو کہ دیتے ہیں ، اس لفظ کا بیتر جمہ نہیں ۔ تو بجاۓ س کے کہ ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں کیوں نہ خودمرزا صاحب سے ہی پوچھ لیا جاۓ کہ اس لفظ کا کیا ترجمہ ہے؟ تو آیئے انہی سے پوچھتے ہیں! مرزا صاحب نے اپنی کتاب ’’نورالحق‘‘ ( روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 163) پر یہی لفظ’’ذریةالبغایا‘‘ لکھا ہے اور اس کا ترجمہ کیا ہے’’خراب عورتوں کی نسل‘‘۔

اپنی کتاب لجۃ النور میں مختلف مقامات پر لفظ’’البغا یا‘‘ لکھا ہے ، اور ایک جگہ اس کا ترجمہ فاری میں کیا ہے زنہاۓ زائیں ، یعنی زانیہ عورتیں ۔ ایک دوسری جگہ اس کا ترجمہ کیا ہے’’ زنان فاسقہ یعنی فاسق عورتیں۔

(روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 371)

(روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 426)

اور اسی کتاب میں ایک جگہ ’البغایا‘‘ کا واحد’’البغی‘‘ لکھا ہے اور اس کا ترجمہ کیا ہے زن فاحش‘‘ یعنی فاحشہ عورت ۔

(روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 428)

ثابت ہوا کہ’’ ذریۃ البغایا‘‘ کا مطلب مرزا صاحب کی تحریروں میں زانی ، فاسق ، بازاری اور فاحشہ عورتوں کے سوا کچھ نہیں۔

مرزا صاحب کے بیٹے’’ خلیفہ دوم‘‘ مرزا بشیر الدین محمود لکھتے ہیں!

……گل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوۓ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں‘‘۔

(آئینہ صداقت، انوار العلوم ، جلد 6 صفحہ 110) ایک اور جگہ بیفتوی جاری کیا!

….. ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اوران کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالی کے ایک نبی کے منکر ہیں ، بیدین کا معاملہ ہے اس میں کسی کا اپنا کوئی اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔

(انوار خلافت ، انوار العلوم جلد 3 صفحہ 148)

 

مرزا صاحب کے دعاوی کی ایک اہم خصوصیت ان کا احساس برتری  ہے۔

اعجاز احمدی‘‘ میں انہوں نے اپنے معجزات کو نبی کریم سیا پیلم کے معجزات پر ترجیح دینے کی کوشش کی ہے!

….. اور اس کے لیے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند و سورج دونوں کا ،اب کیا تو انکار کرے گا‘‘؟

(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 183)

مرزا صاحب نے اپنی زندگی غربت کے ساتھ شروع کی تھی ، زمینداری کا بڑا حصہ نکل چکا تھا، آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہ تھا ، وہ خود اس دور کے متعلق لکھتے ہیں!

…. مجھے صرف اپنے دستر خوان اور روٹی کی فکرتھی‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 496)

و پچیس برس سے گمنامی اور غربت کی زندگی گزار ہے تھے۔ یہ حالت اس وقت تک رہی کہ مرزا صاحب ایک مصنف اور اسلام کے وکیل کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے آۓ ۔ پھر انہوں نے ایک مبلغ اور روحانی پیشوا کی حیثیت سے شہرت حاصل کی ۔ پھر انہوں نے مسیح موعوداور آخر میں مستقل پیغمبر کی حیثیت اختیار کی ۔اب ان کے حالات یکسر بدل چکے تھے ۔اب وہ ایک مذہبی گروہ (Religious cult) کے روحانی پیشوا تھے ۔ ہر طرف سے تحائف ، نذرانوں اور پیشکشوں کا دریا امڈ رہا تھا اور وہ ہزاروں آدمیوں کی روحانی عقیدت اور خلوص و محبت کا مرکز تھے۔ اس ساری صورت حال کا انجام یہ ہوا کہ قادیانیت کا مرکز قادیان اور تقسیم ہندوستان کے بعد ربوہ ایک اہم دینی ریاست بن گیا ۔ جس میں مرزا صاحب کے خاندان کو امارت دریاست

کے وہ سب لوازم، ایک مذہبی آمر اورمطلق العنان فرمانروا کے سب اختیارات اور خوش باشی وعیش کوشی کے وہ سب مواقع مہیا ہیں ، جو اس زمانے میں کسی بڑے سے بڑے انسان کو حاصل ہو سکتے ہیں ۔اس دینی و روحانی مرکز کی اندرونی زندگی حسن بن صباح باطنی کے قلعہ الموت کی یاد تازہ کرتی ہے جو پانچو میں صدی ہجری میں مذہبی استبداداور عیش وعشرت کا ایک پراسرار مرکز تھا۔ مرزاصاحب کی وفات 1908ء میں ہوئی ۔اس وقت تک ان کی جماعت میں کوئی باہمی اختلاف نہیں ہوا تھا۔ ان کے بعد حکیم نورالدین ان کے جانشین مقرر ہوۓ ۔ان کی زندگی میں بھی کوئی اختلاف ابھر کر سامنے نہ آیا۔ان کی وفات 1914ء میں ہوئی اور اس کے ساتھ ہی یہ جماعت دوشاخوں میں بٹ گئی ۔ قادیانی شاخ کے سر براہ مرزا بشیرالدین محمود قرار پائے اور خواجہ کمال الدین اور مولوی محمدعلی نے لاہوری شاخ قائم کی ۔ لا ہوری جماعت کا دعوی ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتی بلکہ مسیح موعود،مہدی اور مجدد مانتی ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ عقیدہ و مذہب کے اعتبار سے ان دونوں جماعتوں میں عملاً کوئی فرق نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اول حکیم نورالدین کے انتقال تک لاہوری گروپ کے تمام ارکان مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی‘‘ اور ’رسول‘‘ کہتے اور مانتے رہے ۔ محمد علی لاہوری صاحب عرصہ دراز تک مشہور قادیانی رسالے ریویو آف ریلیجن‘‘ کے ایڈیٹر رہے اور اس عرصے میں انہوں نے بے شمار مضامین میں مرزا صاحب کی نبوت و رسالت کے قائل ہونے کا اعلان کیا ۔لاہوری جماعت کو اس وقت جماعت قادیان کے عقائد پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ جھگڑ ا صرف اس بات پر تھا کہ تمام اختیارات انجمن احمد یہ کو دیئے جائیں نہ کے خلیفہ کو لیکن مرزا بشیر الدین محمود نے اس تجویز کو منظور نہ کیا تو محمدعلی لاہوری ان سے الگ ہو گئے اور اپنے سابقہ عقائد اور تحریروں سے رجوع اور توبہ کا اعلان کیے بغیر یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہم مرزا غلام احمد کو ہی نہیں بلکہ سیح موعود ،مہدی اورمجرد مانتے ہیں۔ لیکن ان کا پیمنوقف ایک لفظی ہیر پھیر سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ وہ مرزا صاحب کوسچا اور واجب الاطاعت سمجھتے ہیں اور مرزا صاحب نے واضح الفاظ میں نبوت کا دعوی کیا ہے ۔لہذا قادیانی اور لاہوری گروہ کے عقائد کا اختلاف محض زبان(Language) کا اختلاف ہے۔معنی مفہوم اور عملی نتائج کے لحاظ سے دونوں ایک گروہ ہیں ۔ اور اسی طرح جماعت احمدیہ میں فرقے بننے کا عمل جاری ہے ۔ احمدیت اپنے تمام نظیمی ڈسپلن اور مالی وسائل کے باوجود شروع ہی سے انتشار کا شکار رہی اور یوں اس میں بہت سے فرقے بنتے چلے گئے ۔ یہ سب فرقے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا امام اور پیشواتسلیم کرتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں اور ایک دوسرے کو گمراہ قرار دیتے ہیں ۔

 

 

Read Comments.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Read More.

Mirza's Moral Disposition

Mirza’s Moral Disposition

Moral DispositionFrom his very childhood, the Mirza was very simple. He was unaware of worldly matters and appeared to be a little absent-minded. He did

Read More »
Mirza Sahab Ki Mutazad Tehreerain

Mirza Sahab Ki Mutazad Tehreerain

مرزا صاحب کی متضاد تحریریں آپ کو چاہیے کہ مرزا غلام احمد صاحب کی ’’تمام‘‘ کتا بیں آپ خود پڑھیں صرف سلیکٹڈ سٹڈی نہیں ۔ان

Read More »