Qadianiat Siasi Nukta e Nigah Se

Qadianiat Siasi Nukta e Nigah Se

قادیانیت سیاسی نقطہ نگاہ سے



مرز اصاحب اور ان کے دعوے محض ایک شخص کا ذاتی اور نجی معاملہ نہیں ہے بلکہ ان کا ایک سیاسی اور بین الاقوامی (Global) پس منظر ہے۔ بین الاقوامی سیاست کا گہرا شعور ہی ہمیں مرز اصاحب اور ان کی تحریک کے خدوخال سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

مشرقی ممالک میں بالعموم اور اسلامی ممالک پر بالخصوص انگریزی غلبہ واستبداد کے تین پہلو ہیں ۔

  1. یاسی غلبه (Political Domination)
  2. معاشی لوٹ کھسوٹ (Economic Exploitation)
  3. فکری اور تہذیبی یلغار (Cultural and Intellectual Imperialism)

ہندوستانی مسلمانوں کو سیاسی اور معاشی طور پر مغلوب کرنے کے بعد انگریزوں کے سامنے بڑا چیلنج اسلام کا فکر و فلسفہ تھا جو بڑا واضح تھا اور انگریزوں کے نو آبادیاتی نظام (Colonialism) کے خلاف مسلسل مزاحمت کے لیے دینی قوت فراہم کرتا تھا۔

انگریزوں کی پریشانی کا اندازہ ڈبلیوڈ بلیوہنٹر (W. W. Hunter) کی کتاب ( Ourindianmuslims(ہمارے ہندوستانی مسلمان سے ہوسکتا ہے ۔اس نے واضح طور پر لکھا ہے کہ اسلام کا تصور جہاد برطانوی سلطنت کے لیے مستقل خطرہ ہے ۔

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے مسلمانوں پر بے حد تشدد کیا لیکن جب انہیں اندازہ ہوا کہ تشدد کے ذریعے وہ اس جذبے کو ختم نہیں کر سکتے تو انہوں نے جہاد کے خلاف مباحث پیدا کر کے مسلمانوں پر فکری حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔مرزا صاحب اپنے خاندانی پس منظر کی بناء پر اس کام کے لیے آئیڈیل تھے۔ چنانچہ مرزاصاحب زوروشور سے اپنا یہ کردارادا کرنے لگے۔

  • میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں ۔اور اشتہار شائع کیئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھر سکتی ہیں ۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام مما لک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم میں پہنچادیا ہے۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیر خواہ ہوجائیں‘‘۔

( روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 155)

  • میں نے صد ہا کتابیں جہاد کے مخالف تحریر کر کے عرب اور مصر اور بلا دشام اور افغانستان میں گورنمنٹ کی تائید میں شائع کیں ہیں‘‘۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 518)

مرزا صاحب انگریز حکام سے مستقل رابطے میں رہے ۔انگریز حکام کے نام مرزا صاحب کی بہت سی خط وکتابت شائع ہو چکی ہے جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اس کے کام میں مدد دینے کی خواہش ظاہر کی گئی ہے ۔ انگریز حکام خود بھی قادیان آتے رہے چنانچہ فنانشل کمشنر سر جمیز ولسن (Sir James Wilson) نے 1908ء میں قادیان کا دورہ کیا۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ مرزا صاحب کی حفاظت کے لیے ہندوستانی پولیس اہلکاروں پر اعتماد نہیں کیا جا تا تھا بلکہ مرزا صاحب نے جب بھی جلسہ کرنا ہوتا تھا انگریز پولیس اور جوان ان کی حفاظت کرتے ۔

(بشیرالدین محمود احمد یا آخری دنوں کا پیغمبر‘‘)



مرز اصاحب اور انگریزوں کا تعلق دراصل ایک (Symbiotic Relationship) تھا یعنی دونوں ایک دوسرے کی ضرورت تھے ۔مرزا صاحب کی جماعت انگریز کے بل بوتے پر ترقی کی منازل طے کرنے لگی ۔ پہلی جنگ عظیم میں جب انگریزوں نے عراق کو فتح کر لیا تو جماعت احمد میر نے قادیان میں چراغاں کیا۔مرز اصاحب کے خلیفہ انگریزوں کو یوں دعائیں دیتے ہیں ۔

  • ہماری تو دعا ہے کہ اس گورنمنٹ کو آسانی گورنمنٹ ہر میدان میں کامیاب کرے اور بصرہ و بغداد تو کیا چیز ہے بلکہ ہماری تو دعا ہے کہ ساری دنیا میں اس کا راج قائم ہو جاۓ‘‘۔

(الفضل قادیان جلد 4/6 مئی 1917ء)

دوسری طرف انگریزوں کو مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کی شکل میں اعلی قسم کے جاسوس مل گئے تھے ۔ 1923ء میں روس نے محمد امین قادیانی نامی ایک شخص کو گرفتار کیا جو انگریزوں کے لئے جاسوسی کر رہا تھا۔ 1925ء میں افغانستان میں ملاعبدالحکیم اور ملانورعلی نامی دو قادیانیوں سے دستاویزات برآمد ہوئیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ انگریز حکومت کے جاسوس ہیں ۔اور افغانستان حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں ۔جاوا میں جاپانی حکومت نے 1942ء میں قادیانی جاسوسوں کو گرفتار کیا ۔ قادیانی مبلغ عبدالواحد نے مرزامحمودکو 22 فروری 1946ءکواس بارے میں بذریعہ خط اطلاع دی۔

(الفضل ، قادیان مارچ1946ء)

اپنی جماعت کے قیام سے پہلے مرزاصاحب مالی لحاظ سے کمزور تھے وہ اپنی کتابیں شائع کرنے کے لیے عوام الناس سے چندے کی پر زور اپیلیں کیا کرتے تھے لیکن کچھ ہی عرصے میں ان کے اپنے بقول ، وہ دور دراز کے اسلامی ممالک میں جہاد کے خلاف لٹر یچ تقسیم کرانے لگے۔ مالی اور انتظامی طور پر اس لٹریچر کی تقسیم آخر کیسے ممکن ہوئی؟

برطانوی صیہونی ذرائع اس مواد کی تشہیر واشاعت کے ذمہ دار تھے اور انٹیلی جنس کے

اراکین اسے عرب دنیا میں پھیلاتے تھے۔ چنانچہ قادیانی جماعت کے سرکردہ رہنما اور پاکستان

کے سابقہ وزیر خارجہ چوہدری ظفر اللہ خان نے 17 دسمبر 1982ء روز نامہ’’جنگ‘‘لا ہور کو

انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا!

’’جماعت احمد ی کا اسرائیل میں اسرائیل کے قیام سے پہلے کا دفتر موجود ہے‘‘ ۔

مرز اصاحب کے پوتے مرزا مبارک احمد نے اپنی کتاب(Our Foreign mission)

( ہمارے فارن مشنز ) میں اقرار کیا ہے۔

The Ahmadiyya mission in Israel is situated in Haifa at Mount Karmal. We have a mosque there, a mission house, a library, a book depot, and a school. The mission also brings out a monthly, entitled Al-Bushra which is sent out to thirty different countries accessible through the medium of Arabic. Many works of the promised Massih have been translated in to Arabic through this mission.

(Our Foreign Missions by Mirza Mubark Ahmad)

ترجمہ: ’’اسرائیل میں احمد میشن حیفا میں ماؤنٹ کرمل کے مقام پر واقع ہے ۔ وہاں پر ہماری مسجد مشن ہاؤس ، لائبریری اور سکول ہے مشن البشری کے نام سے ایک ماہنامہ بھی شائع ہوتا ہے ۔جوعربی زبان میں 30 مختلف ممالک میں بھیجا جا تا ہے ۔اس مشن کے ذریعے سے مسیح موعود کی بہت سے تصانیف کو عربی زبان میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

( آور فارن مشنز ،مرزا مبارک احمد )

“یروشلم پوسٹ‘‘ کے 22 نومبر 1985ء کے شمارے میں ایک تصویر چھپی جس میں اسرائیل کے صدر کے سامنے دو افراد مئودب بیٹھے ہیں ۔ایک کا نام شیخ شریف احمد امینی اور اسرائیل کے صدر کے سامنے دو افراد مئودب بیٹھے ہیں ۔ایک کا نام شیخ شریف احمد امینی اور دوسرے کا شیخ محمد حمید ہے شیخ امینی اپنے گروہ کے نئے سربراہ شیخ حمید کا اسرائیل کے صدر سے تعارف کروا رہے ہیں اور قادیانیوں کو اسرائیل میں جو آزادیاں حاصل ہیں ان پر اسرائیلی حکومت کا شکر میادا کررہے ہیں ۔

یہ بڑی معنی خیز تصویر ہے ۔جن لوگوں کو اسرائیل کی اصلیت معلوم ہے اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں کہ ایک ایسے گروہ کے ساتھ وہاں کی حکومت کے قریبی اور گہرے تعلقات کا مطلب کیا ہوسکتا ہے جس کے رخصت ہونے والے سر براہ کو اسرائیل کا صدر ذاتی طور پر الوداع کہے اور آنے والے کا خیر مقدم کرے۔







Read Comments.

2 Responses

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Read More.