Mirza saab ka asloob biyan

Mirza saab ka asloob biyan

مرز اصاحب کا اسلوب بیان

 

مرزا صاحب کے ارشادات پانچ زبانوں میں ملتے ہیں ۔عربی ، فارسی ، انگریزی اینجابی اور عربی میں مرزا صاحب نے بہت پھونکا ہے۔ خلیہ الہام یہ سورۃ فاتحہ کی تفسیر اعجاز اسیح اور چند دیگر قصائد و مقالات ۔ چونکہ کسی غیر زبان پر پوری قدرت حاصل کرنا دشوار ہے اس لیے زبان و محاورے کی امرشیں پائی جاتی ہیں کہیں فعل و فاعل میں تطابق نہیں کہیں تعمیر و مرجع میں ہم آہنگی نہیں اور کہیں پنجابی محاورات کوعربی میں منتقل کر دیا ہے ۔ مرزا صاحب کے کلام میں حشو وزوائد بھی بھی شمار ہیں ۔ یہاں تک کہ ان کے ہاں مہمل اور بے معنی جملوں کی بھی کمی نہیں، ملاحظہ کیجئے!

  • اوران ( کامل لوگوں کی روح کو خدا تعالی کی روح کے ساتھ وفاداری کا ایک راز ہوتا ہے۔

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 337)

  • تیری ذریت کو بڑھاۓ گا اور مین بعد تیرے خاندان کو تجھ سے ہی ابتدا قراردیا جاۓ گا‘‘۔

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 442)

مرزا صاحب کے عربی الہامات کا مطالعہ کیا جاۓ تو پتہ چلتا ہے کہ بے شمار جگہوں پر آیات قرآنی ’’نازل‘‘ ہوئیں اور بیسیوں جگہوں پر مقامات حریری و بدیقی کے جملے اور شعراء جاہلیت کے مصرعے مرزا صاحب پر اترے ۔ جہاں انہوں نے خودلکھنا چاہا وہاں’’ ہندوستانی عربی میں لکھا اور صرف ونحو کی فاش غلطیاں کیں ۔ فصاحت و بلاغت کے اعلی معیار نہ ہی کم از کم درست اور بامعنی نثر کی توقع کرنا تو ایک قاری کا حق ہے ۔اس سے زیادہ تشویشناک بات مرزا صاحب کی گالم گلوچ اور لعن طعن سے بھر پورزبان ہے۔ ملاحظہ کیجئے!

  • مرزا صاحب اپنے مخالفین کے بارے میں لکھتے ہیں۔ شمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں‘‘۔

(نجم الہدی روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 53)

  • شخص ہماری فتح کا قائل نہیں ہوگا تو صاف سمجھا جاۓ گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور وہ حلال زادہ نہیں ہے ۔

(روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 31)



مرزا صاحب نے جہاں اہل اسلام کو گالیاں دی ہیں وہاں مسلمان علماء ،عیسائیوں کو اور آریوں کو دل کھول کر گالیاں دی ہیں ۔ چند نمونے یہ ہیں ۔

  • اے مردار خور مولویو، اے بد ذات ،اے خبیث ،اے بد ذات فرقہ مولویاں،انسانوں سے بدتر اور پلید ، بد بخت پلید دل ،خبیث طبع ، مردارخور ، ذلیل ، دنیا کے کتے ، رئیس الدجالين ، رئیس المتعد من ، رئیس المتکبرین ،سلطان التکبرین ،سفیہوں کا نطفہ ،شیخ احمقاں ، شیخ الضال ، شیخ چالباز ، کمینه، گندی روحو منحوس یہودی صفت ، اندھا شیطان ، گمراه د یو شقی ملعون جاہل سجادہ نشین ،اندھیرے کے کیڑو، جھوٹ کا گوہ کھا یا ،اے گولڑہ کی زمین تجھ پرلعنت تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی ،مردہ پرست لوگ عیسائی جاہل اور عیسائی جاہل اور خبیث طینت ، خبیث طبع عیسائی ، نا پاک فرقہ نصرانیوں کا ، پادریوں نے جھوت کی نجاست کھائی ،اے بخیل بد خلق اور حریص ہنسیس بن نسیس جاہل ،سانپ اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے ، بدذات پادری قادیان کے احمق اور جاہل اور کمین بع بعض آری، اول درجہ کے خبیث فطرت اور نا پاک طبع ، اے نادان آر یوسی کنوئیں میں پڑ کر ڈوب مرو۔

می نازیبا الفاظ کس قسم کے شخص کے قلم سے نکل سکتے ہیں؟

ایک شریف اور مہذہب انسان اس طرح کی بدزبانی کا مرتکب ہو ہی نہیں سکتا ۔مرزا صاحب نے للکار للکار کر گالیاں دیں ۔ایک صاحب منشی الہی بخش نے مرزا صاحب کی تحریروں سے ان گالیوں کو ردیف وار جمع کیا ہے ۔ مرزا صاحب کی محبوب گالیاں تو بہت ہی تھیں لیکن بڑی گالی بیتھی کہ جو انہیں نہیں مانتاوہ زانیہ کی اولاد ہے ۔ وہ تسلسل سے دوسروں کو حرام زادہ کہتے حتی کہ بعض پمفلٹ صرف گالی تھے ۔ نتیجتاً عیسائیوں اور آر یوں کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملا کہ اسلام میں پیغمبروں کی زبان یہی رہی ہے لیکن دوسری طرف مرزا صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ!

  • گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں‘‘۔

(اربعین نمبر 4، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 471)

  • کسی کو گالی مت دو گووہ گالی دیتا ہو۔

( کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 11)

احمدی حضرات میں عذر پیش کرتے ہیں کہ ہمارے مرزا صاحب نے یہ گالیاں نہیں دیں بلکہ انہیں سخت الفاظ کہتے ہیں ، اور یہ الفاظ انہوں نے مجبوراً ان لوگوں کے جواب میں لکھے ہیں جنہوں نے ہمارے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں ۔ ہم ایک منٹ کے لیے فرض کر لیتے ہیں کہ کسی نے مرزا صاحب کو گالیاں دی تھیں لیکن مرزا صاحب نے تو بینصیحت کی تھی کہ!

  • گالیاں سن کر عادو، پاکے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھوتم دکھاؤانکسا‘‘۔

(براہین احمد میں حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 رصفحہ 144)



ا









Read Comments.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Read More.